Shaukat Tarin appointed as Advisor to PM on Finance

 

SHAUKAT TAREEN_1

فائل فوٹو

بطور غیر منتخب وزیر 6 ماہ مکمل ہوجانے پر شوکت ترین کو مشیر خزانہ مقرر کر دیا گیا۔

کیبنٹ ڈویژن نے آئین کے آرٹیکل 93 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپریل2021 میں آئین کے تحت شوکت ترین کو 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر خزانہ  بنایا تھا لیکن چوں کہ شوکت ترین اس دوران الیکشن کے ذریعے اسمبلی یا سینیٹ کا حصہ نہیں بن سکے اس  لیے ان سے وزارت واپس لے کر مشیر کے منصب پر فائز کردیا گیا۔

واضح رہے کہ آئین کے تحت کسی غیرمنتخب شخص کو 6 ماہ کی مدت تک کے لیے وفاقی وزیر بنایا جاسکتا ہے لیکن چوں کہ کابینہ کا حصہ بننے کے لیے ایک غیرمنتخب شخص کو قومی اسمبلی یا سینیٹ کا رکن ہونا لازمی ہے اس لیے ایسا وزیر اگر اپنی تقرری کے 6 ماہ کے عرصے میں منتخب نہیں ہو پاتا تو پھر اسے وزارت چھوڑنی پڑتی ہے۔

یاد رہے کہ حفیظ شیخ بھی غیر منتخب وزیر خزانہ تھے جنہیں سینیٹ الیکشن میں شکست کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

Finance Ministry lists

تحریک انصاف کے دور حکومت میں اب تک چار افراد کو وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز کیا جا چکا ہے۔

حکومت کے پہلے وزیر خزانہ اسد عمر تھے جوکہ 20 اگست 2018 تا 18اپریل 2019 عہدے پر رہے۔ اسکے بعد 18اپریل 2019 کو حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا گیا اور 11دسمبر 2020 کو انہیں وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔

حفیظ شیخ کو 29مارچ 2021 کو عہدے سے ہٹاکر حماد اظہر کو اسی روز وزیر خزانہ بنایا گیا جوکہ 16اپریل 2021 تک ہی عہدے پر برقرار رہ سکے۔ حماد اظہر کے بعد شوکت ترین کو 6 ماہ کے لیے وزیر خزانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے 29 ستمبر کو کہا تھا شوکت ترین کو سینیٹر بنایا جائے گا تاکہ وہ اپنے فرائض جاری رکھ سکیں۔  اس حوالے سے تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت شوکت ترین کو خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب کروا کر وفاقی وزیر خزانہ بنانا چاہتی ہے۔



Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button