4

نئی آٹو پالیسی لارہے ہیں جس میں ان کمپنیوں کے نخرے ٹھیک کئے جائیں گے

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ کار ساز کمپنیاں لاڈلے رہے ہیں جلد نئی آٹو پالیسی لارہے ہیں جس میں ان کمپنیوں کے نخرے ٹھیک کئے جائیں گے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے مطابق اگر کمپنیاں بروقت گاڑیاں ڈیلیور نہیں کریں گی تو انہیں جرمانہ دینا پڑے گا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ گاڑیوں سمیت تمام لگژری آئٹمز کو دیکھ رہے ہیں کہ اس کی درآمد میں کس طرح کمی لائے جاسکتی ہے تاکہ تجارتی خسارہ میں کمی ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کار ساز صنعتیں یہاں پر گاڑیاں صرف اسمبل کرتی ہیں اور صرف 3 کمپنیوں کی اجارہ داری ہے، اس لئے اب ہم 7 کمپنیوں کو مارکیٹ میں لارہے ہیں تاکہ کمپنیوں کے درمیان مسابقت کا رجحان پیدا ہوجائے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس وقت کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں پیداوار کم ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا بھر سے کم ہے، کچھ ممالک میں 50 فیصد سے زیادہ مہنگائی ہے مگر پاکستان میں ان کے مقابلے میں صرف 15 فیصد مہنگائی ہوئی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں پر مہنگائی کا زیادہ بوجھ اس لئے پڑا کیونکہ لوگوں کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوا اور اس میں بڑا کردار آئی ایم ایف پروگرام کا ہے، اگر لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوتا تو پھر موجودہ مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد ہے جو پچھلے سال 18 فیصد تھی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو سہولت پہنچانے کیلئے مختلف اقدامات پر کام شروع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ سے کم قیمت پر ریلیز شروع کردی ہے جس سے آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی جبکہ اشیائے خور و نوش کی مد میں مستحق افراد کو کیش سبسڈی کا ایک پروگرام شروع کررہے ہیں جس پر 150 ارب روپے لاگت آئے گی۔

وزیرخزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار میں مڈل مین کا منافع بہت زیادہ ہے، اس حوالے سے بھی کام کررہے ہیں جبکہ مستقبل کیلئے گودام اور کولڈ اسٹوریج کیلئے بھی بجٹ مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر میں خسارہ پر قابو پانے کیلئے بجلی کی قیمت بڑھانے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا ہمیں لائن لاسز کے حوالے سے کام کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ جب تک نقصان میں جانے والے تمام اداروں کی نجکاری نہیں ہوگی حکومتی خسارہ ختم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امپورٹ بڑھنے سے مارکیٹ میں گھبراہٹ ہوئی ہے، جس سے ڈالر کی قمیت میں اضافہ ہوا ہے مگر اس مسئلے کو بھی جلد حل کرلیں گے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ایکسچینج ریٹ ریئل افیکٹیو ایکسچینج ریٹ کیساتھ ہونا چاہئے، اس وقت روپیہ ضرورت سے زیادہ کمزور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی ٹیکس کے نظام میں لارہے ہیں اور غیر رجسٹرڈ 15 ملین لوگوں کے بھی اکاؤنٹس بنائے ہیں، جن تک نادرا اور ایف بی آر کے ذریعے پہنچا جائے گا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ریٹیل میں 18 ٹریلین روپے کی تجارت ہوتی ہے مگر ہمارے پاس رجسٹرڈ صرف ساڑھے تین ٹریلین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز تو ٹیکس دے رہے ہیں مگر نیچے جاکر ٹیکس کلیکشن ختم ہوجاتی ہے، ہمیں اس حوالے سے کام کرنا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے سیلز ٹیکس کو 17 سے 10 فیصد پر لے کر آئے ہیں تاکہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، اس لئے ابھی قیمتوں کو عالمی سطح کے برابر لانے کا جلد کوئی ارادہ نہیں ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے آئل فیسیلیٹی کے بارے میں بھی جلد قوم کو خوشخبری دیں گے، جس سے بجٹ میں ہمیں 2 ارب ڈالر تک کے خسارہ کی کمی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت سے متعلق آئی ایم ایف کو اعتماد میں رکھنا ملک کے مفاد میں ہے، اگر پروگرام ہماری شرائط کے مطابق ہو تو یہ پروگرام ملک کے مفاد میں ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کہ اگر امریکا سے تعلقات اچھے ہوجائیں تو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط میں نرمی بھی ہوسکتی ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ افغان صورتحال ہمارے لئے اچھا موقع ثابت ہوسکتا ہے اگر ہم نے عقل مندی سے کام لیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان کے پاس ڈالر نہیں ہیں مگر ان کو ضرویات زندگی کی چیزیں تو چاہئیں، اگر ہم ان کے ساتھ روپے یا کسی دوسری کرنسی میں کاروبار کریں تو یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مستحکم افغانستان چین کے بی آر آئی منصوبے کے مفاد میں ہے، جس سے گوادر تک سینٹرل ایشیا کے ممالک تک روٹ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ افغان حکومت مستحکم ہوجائے اور اس مقصد کیلئے ہم نے خطے کے ممالک سے بھی مشاورت کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں