شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی 83 ویں برسی

شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ محمد قبال کی 83 ویں برسی آج انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ، انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی، مشن ہائی اسکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔

اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ماسٹرزکیا اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ چلے گئے جہاں قانون کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

آپ نے اوریئنٹل کالج میں تدریس کے  فرائض بھی انجام دیے تاہم وکالت کو مستقل پیشے کے طور پر اپنایا۔

علامہ اقبال وکالت کے ساتھ ساتھ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں  بھی حصہ لیا ۔1922 میں حکومت کی طرف سے آپ کو ’ سَر‘ کا خطاب ملا۔

علامہ اقبال نے 1930 میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا خواب دیکھا ۔الہٰ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔

 انہوں نے اپنی شاعری سے برصغیر کی مسلم قوم میں بیداری کی نئی روح پھونک دی۔

علامہ اقبال کی کاوشوں سے ہی تحریک پاکستان نے زور پکڑا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں 14 اگست 1947 کو ایک آزاد وطن پاکستان  حاصل کرلیا۔

تاہم علامہ قیام پاکستان سے 9 برس قبل ہی 21 اپریل 1938 کو وفات پاگئے تھے،آپ کو لاہور میں  سپرد خاک کیا گیا تھا۔

آپ کے مشہور شعری مجموعوں میں ’بانگ درا، بال جبریل، ضرب کلیم سمیت دیگر شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here