شاہ محمود قریشی کی روضہ امام پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے روضہ امام پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  میری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی ،اسپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ ملاقاتیں بہت سود مند رہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایرانی قیادت کے ساتھ پاکستان اور ایران کے مابین دہائیوں پر محیط دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

ہم نے ایران کے ساتھ تجارتی مراسم کے فروغ کے لئے پاکستان اور ایران کی سرحد پر “تجارتی مراکز” کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل ہم نے اس حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ اور بارڈر ایریاز کے مکینوں کی سہولت کے لئے “مند پشین کراسنگ پوائنٹ” کو کھول دیا ہے۔

 شاہ محمود قریشی نے علاقائی صورتحال، بالخصوص افغان امن کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کر اسلاموفوبیا کے تدارک کے لئے امہ کو یکجا کرنے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ امام  کے روضے پر حاضری روحانی تسکین  اور طمانیت کا باعث ہوتی ہے ،ایران آ کر اگر امام کے روضے کی زیارت نہ کی جائے تو ایک تشنگی سی رہ جاتی ہے۔

ان تمام ملاقاتوں کے بعد میں یہ بات پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان اور ایران کے مابین دو طرفہ اور عوام کی سطح پر دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی  نے کہا کہ ریاستوں کے مابین تعلقات اس وقت مستحکم ہوتے ہیں جب عوام کے مابین گرم جوشی پائی جاتی ہے۔

ہر سال پاکستان سے تقریباً 5 لاکھ زائرین زیارات کے لئے ایران تشریف لاتے ہیں اور جب وہ وطن واپس آتے ہیں تو اپنے ساتھ نیک خواہشات لاتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ہماری حکومت  نے ایران آنے والے زائرین کو سہولیات کی فراہمی کیلئے “خصوصی پالیسی” متعارف کروائی ہے۔

ہم ایران حکومت کے ساتھ مل کر زائرین کو مزید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے پر عزم ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here